بنگلور، 26؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے کالا ہانڈی ضلع میں سرکاری اسپتا ل کے افسران کی طرف سے ایمبو لینس مہیا نہ کرائے جانے پر ایک شخص کے ذریعہ اپنی بیوی کی لاش کو تقریبا 10کلومیٹر تک کندھے پر لاد کر چلنے کے واقعہ کوافسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔یہاں منعقد اڑیسہ انویسٹمینٹ کانفرنس- 2016سے الگ پٹنائک نے کہاکہ یہ کافی تکلیف دہ واقعہ ہے، ہم نے جانچ کا حکم دے دیا ہے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پٹنائک نے کہا کہ اڑیسہ حکومت نے سرکاری اسپتا لوں سے متوفی کے گھر تک اس کی لاش لے جانے کے لیے مفت ٹرانسپورٹ سہولیات مہیا کرانے کے لیے ’مہاپریان ‘اسکیم کی شروعات کی ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس معاملے میں اب تک کوئی کارروائی کی گئی ہے؟ وزیر اعلی نے کہاکہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے دیں۔واضح رہے کہ اڑیسہ کے کالاہانڈی ضلع کے بھوانی پٹنا میں ضلع ہیڈکوارٹر اسپتا ل میں منگل کی رات دانا مانجھی کی 42سالہ بیوی امانگ دیئی کی تپ دق کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔مانجھی نے الزام لگایا تھا کہ کافی کوششوں کے باوجود بھی اسپتا ل کے حکام نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔بدھ کو مانجھی نے اپنی بیوی کی لاش کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر اپنے کندھے پر لادا اور اپنے گاؤں میل گھرا کی طرف پیدل ہی چلنا شروع کر دیا۔اس کے ساتھ اس کی 12سالہ بیٹی بھی تھی، میل گھرا بھوانی پٹنا سے تقریبا 60کلو میٹر دور ہے۔کچھ مقامی صحافیوں کے دیکھنے تک مانجھی اپنی بیوی کی لاش کو کندھے پر لاد کر پیدل ہی چلتا رہا۔صحافیوں نے ضلع مجسٹریٹ کو فون کیا اور لاش لے جانے کے لیے ایک ایمبولینس کا انتظام کیا، لیکن اس وقت تک مانجھی 10کلومیٹر کا سفر طے کر چکا تھا۔
کانگریس کارکنان نے سی ڈی ایم او دفتر کا گھیراؤ کیا، مانجھی کے لیے معاوضہ کامطالبہ کیا
اڑیسہ کے بھوانی پٹنا میں کانگریس حامیوں نے آج ضلع کے چیف میڈیکل افسر کے دفتر کا گھیراؤ کر کے دانا مانجھی کے اہل خاننہ کو 10لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔مانجھی وہی شخص ہے جسے اپنی بیوی کی لاش کو کندھے پر اٹھا کر 10کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑا تھا کیونکہ اسپتا ل نے اسے ایمبولینس فراہم کرنے سے مبینہ طور پر انکار کر دیا تھا۔کالا ہانڈی ضلع کانگریس کی جانب سے منعقد کی احتجاج میں بڑی تعداد میں پارٹی حامیوں نے شرکت کی اور لاش کو اسپتال سے اس کے گاؤں تک لے جانے کے لیے مبینہ طور پر ایمبولینس مہیا نہیں کرانے کو لے کر انتظامیہ کی سخت تنقید کی۔ضلع کانگریس سکریٹری سامنت کھامری نے کہا کہ ہم نے معاوضہ کی رقم کے علاوہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی اور مانجھی کی 12سالہ بیٹی کے لیے تعلیم کا مناسب بندوبست کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے اس معاملے میں وزیر اعلی نوین پٹنائک سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے ڈی حکومت کی طرف سے ریاست میں شروع کئے گئے تمام فلاحی منصوبے ناکام رہے ہیں اور غریبوں کو ان کا فائدہ نہیں پہنچا ہے۔غورطلب ہے کہ بدھ کو دانا مانجھی کو اپنی بیوی کی لاش کو کندھے پر لاد کر 10کلومیٹر پیدل چلنا پڑا تھا کیونکہ اسپتا ل انتظامیہ نے انہیں لاش لے جانے کے لیے ایمبولینس مہیا کرانے سے مبینہ طور پر انکار کر دیا تھا، مانجھی کی بیٹی بھی ان کے ساتھ تھی۔